MOJ E SUKHAN

ہم اپنے دل کی دھڑکن میں ایک تمنا لائے ہیں

ہم اپنے دل کی دھڑکن میں ایک تمنا لائے ہیں
تجھ سے پیار کی باتیں کرنے دور کہیں سے آئے ہیں

اپنی آنکھیں راہ گزر ہیں اپنا چہرہ پتھر ہے
تیرے وعدوں نے بھی مجھ کو کیا کیا خواب دکھائے ہیں

تیرے آنچل کی چھاؤں سے شہر جنوں کی دھوپ تلک
خوشبو بن کر بکھرے ہم غنچہ بن کر مرجھائے ہیں

کوئی اجالا تھا جو ہمارے جسم و جاں سے گزرا ہے
کس خورشید نے اندھے گھر میں اپنے عکس اڑائے ہیں

تازہ دھوپ میں جھیل کنارے جب سے تجھ کو دیکھا ہے
جاذبؔ نے اجلے اجلے رنگوں کے خواب بچھائے ہیں

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم