MOJ E SUKHAN

ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیں

غزل

ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیں
ہم ایسے لوگ فقط راستے بناتے ہیں

یہ تیرے جسم کو چھو کر پتہ چلا ہے مجھے
کہ نرم پھول بہت جلد سوکھ جاتے ہیں

یہ کام ہجر میں بدعت شمار ہوتا ہے
مگر یہ دیکھ کہ ہم پھر بھی مسکراتے ہیں

ترا تو خیر کوئی تجھ سے دور ہی نہ گیا
تجھے خبر ہی نہیں سانس کیسے آتے ہیں

نظر نہ آئیں گے تجھ کو غبار اڑنے دے
ترے لیے جو مجھے راہ سے ہٹاتے ہیں

تمہارے خواب غنیمت ہیں بجھتی آنکھوں کو
مگر یہ خواب ہمیں نیند سے جگاتے ہیں

یہ کون باغ میں ساحرؔ دکھائی دینے لگا
کہ پھول پیڑ پرندے خوشی مناتے ہیں

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم