MOJ E SUKHAN

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر
سو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر

اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساری
کبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر

تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے
نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر

کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل
کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر

شناسؔ کھول دیئے جس نے ہم پہ سب اسرار
وہ ایک لفظ ملا ہے کتاب سے باہر

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم