Ham bhi Hoyee Hain Un say Pasheman Kabhi Kabhi
غزل
ہم بھی ہوئے ہیں ان سے پشیماں کبھی کبھی
ہونے لگے ہیں وہ بھی گریزاں کبھی کبھی
دہشت گروں کو کوئی سروکار اس سے کیا
کرتے ہیں خون پانی سے ارزاں کبھی کبھی
اے دل تجھے تو خود پہ ہنسانے کے واسطے
"پھاڑا ہے ہم نے یوں بھی گریباں کبھی کبھی”
وہ دور بھاگتے ہیں نظر دل سے , اتنے ہی
نزدیکیوں کے ہوتے ہیں امکاں کبھی کبھی
تم پیار سے یوں سر میں تو پھیرو یہ انگلیاں
الفت کا ایسے بھی تو ہو ساماں کبھی کبھی
خواب و خیال میں تو یوں رہتے ہو تم مرے
پہلو میں بیٹھنے کا ہے ارماں کبھی کبھی
حسن وشباب دیکھ کے اپنے یہ سامنے
معصوم دل مچلتا ہے ناداں کبھی کبھی
انعام الحق معصوم صابری
Inam Ul Haq Masoom Sabri