MOJ E SUKHAN

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
نعت کے شعر کہیں اور سے آتے ہیں میاں

رنگ مضموں تو ہے منت کش جبریل کہ ہم
سادے کاغذ پہ لکریں سی بناتے ہیں میاں

تم جو چاہو اسے معراج کہو تو کہہ لو
میرے آقا تو وہاں سیر کو جاتے ہیں میاں

ہم کو پاپوش مقدس کی زیارت ہے بہت
ان کے نعلین تو افلاک اٹھاتے ہیں میاں

در پہ آقا کے ہوں رضوان! مجھے اور نہ چھیڑ
ان کی چوکھٹ بھی کہیں چھوڑ کے جاتے میں میاں؟

سب کو مل جاتی ہے خیرات بقدر توفیق
اس گلی میں تو صدا سب ہی لگاتے ہیں میاں

خواب میں کاش بلال آ کے کسی روز کہیں
جلد اٹھو تمہیں سرکار بلاتے ہیں میاں

عارف امام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم