MOJ E SUKHAN

ہم جو کرتے تھے وہی تم بھی عبادت کرتے

ہم جو کرتے تھے وہی تم بھی عبادت کرتے
تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ محبت کرتے

عمر ساری مری گزری ہے مری ماں کی طرح
آیت الکرسی سے اِک گھر کی حفاظت کرتے

ہر ستم سہہ کے بھی خاموش ہوں، لب بستہ ہوں
تم سے ہوتے جو اگر ہم، تو شکایت کرتے

ہم محبّت میں اگر جھوٹ کے قائل ہوتے
ہم کسی عشق کچہری میں وکالت کرتے

زَر کی تقسیم جو انصاف پہ مبنی ہوتی
لوگ بچوں کے نہ اعضا کی تجارت کرتے

ہم اگر عشق نہ کرتے تو خسارہ ہوتا
ہم اگر پیار نہ کرتے تو حماقت کرتے

آپ نے ہم کو خطا وار کہا بن پوچھے
آپ موقع ہمیں دیتے تو وضاحت کرتے

ہم کٸی تاج محل دنیا کو تحفہ دیتے
اپنے ترکے کی اگر ہم بھی حفاظت کرتے

اپنی دنیا تو یہی شہر ِکراچی تھا ثبین
چھوڑ کے اپنا سمُندَر کہاں ہجرت کرتے

ثبین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم