MOJ E SUKHAN

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا
خوشبوؤں کا قحط ہے گاؤں میں کیا

کم نہیں گہرے سندر سے جو دل
وہ بھلا ڈوبے گا دریاؤں میں کیا

ہر طرف روشن ہیں یادوں کے کلس
گھر گئے ہیں ہم کلیساؤں میں کیا

جن کی آنکھوں میں ہے نیندوں کا غبار
روشنی پائیں گے صحراؤں میں کیا

رات دن قرنوں سے ہوں گرم سفر
ایک چکر ہے مرے پاؤں میں کیا

دھوپ تو بدنام ہے یوں ہی رضاؔ
پھول مرجھاتے نہیں چھاؤں میں کیا

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم