MOJ E SUKHAN

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے
پوری دل کی یہی جستجو کیجیے

آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترف
وار کیجے مگر دو بدو کیجیے

دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاں
کیجیے کیجیے اب رفو کیجیے

پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سے
جسم و جان و جگر مت لہو کیجیے

زندگی ہو مگر درد ہجراں نہ ہو
ایسے جینے کی کیا آرزو کیجیے

آپ کتنے حسیں ہیں نہیں جانتے
آئنے کو ذرا روبرو کیجیے

فرحتؔ جاں کی کیوں جستجو کیجیے
بجھتے جیون کی کیا اب نمو کیجیے

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم