MOJ E SUKHAN

ہم سے کسی کے بخت کا تارا نہیں ملا

ہم سے کسی کے بخت کا تارا نہیں ملا
بچھڑا جو ایک بار دوبارہ نہیں ملا

کاغذ کی کشتیوں میں سواری کا شوق تھا
اب یہ شکائتیں ہیں کنارہ نہیں ملا

خوشبو بھی سو رہی ہے ابھی پتیوں کے بیچ
غنچوں کو بھی ہوا کا اشارہ نہیں ملا

چاہا نہیں کسی کو کبھی آپ کی طرح
دنیا میں کوئی آپ سا پیارا نہیں ملا

ہنس ہنس کے طے کئے ہیں جدائی کے راستے
اس کاروبار میں بھی خسارہ نہیں ملا

چپ چپ اداس اداس ہیں پتوں کی پائلیں
شاخوں کو ناچنے کا اشارہ نہیں ملا

جاناں یہیں کہیں انہی لمحوں کی بھیڑ میں
اک خواب کھو گیا تھا ہمارا نہیں ملا

انصر ہمارے وہم و گماں میں نہ تھا کہ تم
یہ کہہ کے چھوڑ دو گے سہارا نہیں ملا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم