MOJ E SUKHAN

ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے

غزل

ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے
اپنا یہی ایمان ہے اپنا یہی دیں ہے

اسکا سا کوئی اور جہاں بھر میں نہیں ہے
وہ اتنا حسین اتنا حسین اتنا حسین ہے

ہونا بھی جو چاہیں تو جدا ہو نہیں سکتے
برسوں کی رفاقت ہے کوئ کھیل نہیں ہے

احساس کی صورت کبھی جلوؤں کی ضیائیں
الفت تری اس رنگ میں اس دل کے قریں ہے

میں تیرے خیالات میں گم ہوں تو عجب کیا
دنیا تو خیالات کی ہوتی ہی حسین ہے

اب مجھ سے کہاں بچ کے چلا جائے گا بتلا
اب تو ترا احساس مرے دل میں مکیں ہے

عمران کو سرکار نے اپنا ہے بنایا
اب اس کو زمانے کی کوئ فکر نہیں ہے

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم