غزل
ہم عشق کے بندے ہیں محبت پہ یقیں ہے
اپنا یہی ایمان ہے اپنا یہی دیں ہے
اسکا سا کوئی اور جہاں بھر میں نہیں ہے
وہ اتنا حسین اتنا حسین اتنا حسین ہے
ہونا بھی جو چاہیں تو جدا ہو نہیں سکتے
برسوں کی رفاقت ہے کوئ کھیل نہیں ہے
احساس کی صورت کبھی جلوؤں کی ضیائیں
الفت تری اس رنگ میں اس دل کے قریں ہے
میں تیرے خیالات میں گم ہوں تو عجب کیا
دنیا تو خیالات کی ہوتی ہی حسین ہے
اب مجھ سے کہاں بچ کے چلا جائے گا بتلا
اب تو ترا احساس مرے دل میں مکیں ہے
عمران کو سرکار نے اپنا ہے بنایا
اب اس کو زمانے کی کوئ فکر نہیں ہے
احمد عمران اویسی