MOJ E SUKHAN

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ

غزل

ہم نفس خواب جنوں کی کوئی تعبیر نہ دیکھ
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

تو کسی حسن جہاں سوز کی تصویر نہ دیکھ
اپنے گزرے ہوئے حالات کی تفسیر نہ دیکھ

حسن تدبیر سے تقدیر بدل دے اپنی
جو ہے حالات سے منسوب وہ تقدیر نہ دیکھ

تو پرستار عمل ہے تو عمل کی خاطر
خواب رنگیں کی قسم خواب کی تعبیر نہ دیکھ

رزم ہستی سے گزرنا ہے اگر تجھ کو نیازؔ
ظلمت شب کو سمجھ صبح کی تنویر نہ دیکھ

عبدالمتین نیاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم