MOJ E SUKHAN

ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہے

غزل

ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہے
کتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہے

قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہم سفرو
کوئی منزل ہے نہ بستی نہ کہیں سایا ہے

ایک سہما ہوا سنسان گلی کا نکڑ
شہر کی بھیڑ میں اکثر مجھے یاد آیا ہے

یوں لیے پھرتا ہوں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صلیب
اب یہی جیسے مری زیست کا سرمایہ ہے

شہر میں ایک بھی آوارہ نہیں اب کے برس
موسم لالہ و گل کیسی خبر لایا ہے

ان کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ آزرؔ
دھوپ میں کیوں مرے ہم راہ چلا آیا ہے

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم