MOJ E SUKHAN

ہم نے جتنی محبتیں کی ہیں

ہم نے جتنی محبتیں کی ہیں
بخدا سب بغاوتیں کی ہیں

وہ محبت نہیں ملی پھر بھی
جس کی خاطر محبتیں کی ہیں

قریہ قریہ حسین چہروں کی
لمحہ لمحہ زیارتیں کی ہیں

ہم نے پوری وفا کے رستے میں
اپنی اپنی ضرورتیں کی ہیں

جس کو چاہا بھلا دیا اس کو
عشق میں بھی خیانتیں کی ہیں

تیری تصویر سامنے رکھ کر
خوب پی ہے شرارتیں کی ہیں

چار غزلیں ہیں وہ بھی چوری کی
اس پہ ہم نے صدارتیں کی ہیں

رند پی کر نماز پڑھتے تھے
اور ہم نے امامتیں کی ہیں

شعر یونہی نہیں ہوئے شہ دل
خون تھوکا ریاضتیں کی ہیں

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم