MOJ E SUKHAN

ہم نے سوچا ہے کہ اب زخم سنبھالے جائیں

غزل

ہم نے سوچا ہے کہ اب زخم سنبھالے جائیں
دل میں کانٹے جو چبھے ہیں وہ نکالے جائیں

دسترس میں ہے نہ تو اور نہ تیری الفت
اب کے آنکھوں میں ترے خواب نہ پالے جائیں

ضبط کو میرے مرا جرم سمجھنے والے
میرے آنسو نہ ترا تخت بہا لے جائیں

جن کو جانا ہے وہ جائیں گے مگر یاد رہے
آپ گر جائیں تمنائیں اٹھا لے جائیں

زخم کھا کر ہی سہی ہم نے یہ سیکھا آخر
بار امید کے یاروں پہ نہ ڈالے جائیں

دل نہیں مانتا ہرگام یہی چاہتا ہے
خود ہی آئیں وہ ہمیں اور منا لے جائیں

ہم نے سیکھا ہے یہی اپنے بڑوں سے عمران
اج کے کام کبھی کل پہ نہ ٹالے جائیں

احمد عمران اویسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم