MOJ E SUKHAN

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے

غزل

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے
اڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنے

سونی آنکھوں میں تلاشو نہ وفا کے موتی
ہم لٹا آئے کہیں اور خزانے اپنے

بند پلکوں پہ یہ کس درد نے دستک دی ہے
ٹوٹ جائیں نہ کہیں خواب سہانے اپنے

ہم دریچے پہ کھڑے ہو کے کہاں تک سوچیں
چاند ہر روز بدلتا ہے ٹھکانے اپنے

کون پروانہ بنے کون جلے کس کے لیے
شمع خود بیٹھ کے اب روئے سرہانے اپنے

ہم نے توڑا نہیں ماضی سے تعلق قیصرؔ
ہر نئے شعر میں آنسو ہیں پرانے اپنے

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم