غزل
ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے
اڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنے
سونی آنکھوں میں تلاشو نہ وفا کے موتی
ہم لٹا آئے کہیں اور خزانے اپنے
بند پلکوں پہ یہ کس درد نے دستک دی ہے
ٹوٹ جائیں نہ کہیں خواب سہانے اپنے
ہم دریچے پہ کھڑے ہو کے کہاں تک سوچیں
چاند ہر روز بدلتا ہے ٹھکانے اپنے
کون پروانہ بنے کون جلے کس کے لیے
شمع خود بیٹھ کے اب روئے سرہانے اپنے
ہم نے توڑا نہیں ماضی سے تعلق قیصرؔ
ہر نئے شعر میں آنسو ہیں پرانے اپنے
قیصر الجعفری