MOJ E SUKHAN

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
بس ترے یار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

ایک ہی سچ نے ہمیں ایسا کیا سرافراز
برسر دار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

میں اکیلا ہوں مری جان کے دشمن افلاک
ایک دو چار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

نام سنتے ہی مرا آگ بگولا ہو جائیں
مجھ سے بیزار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

عمر بھر بات پہ قائم رہے فرتاشؔ کہ ہم
اہل کردار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم