MOJ E SUKHAN

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں
دور سے روپ کا صدقہ بانٹیں ہاتھ نہ آئیں پریاں

راہ میں حائل قاف پہاڑ اور ہاتھ چراغ سے خالی
کیونکر جنوں کے چنگل سے ہم چھڑوائیں پریاں

آشاؤں کی سوہنی سحری سیج سجائے رکھوں
جانے کون گھڑی میرے گھر میں آن براجیں پریاں

سارے شہر کو چاندنی کی خیرات اس روز میں بانٹوں
جس دن خواہش کے آنگن میں چھم سے اتریں پریاں

کچے گھروں سے آس حویلی جانے کی خواہش میں
پہروں آئینے کے سامنے بیٹھ کے سنوریں پریاں

پریوں کی توصیف میں ایسے شعر رضاؔ میں لکھوں
جن کو سن کر اڑتی آئیں جھومیں ناچیں پریاں

حسن عباس رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم