MOJ E SUKHAN

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف

غزل

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف
ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف

تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف
ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف

تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو
کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف

منزل پہ پہنچنا ہمیں دشوار نہیں ہے
ہم ہیں بخدا اپنے ہر اک گام سے واقف

پیکر میں ہر اک شخص کے پرتو ہے اسی کا
ہر شخص ہے اس ہستیٔ بے نام سے واقف

تدبیر کی خوبی اسے کہئے کہ وفا میں
ہم ہو نہ سکے حسرت ناکام سے واقف

ہو پائے نہ وہ عظمت ہستی سے شناسا
جو ہو نہ سکے ہیں غم و آلام سے واقف

وجدان پہ اک برق سی لہرائی تھی گوہرؔ
ہو پائے ہمیں حیف نہ الہام سے واقف

گلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم