MOJ E SUKHAN

ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں

غزل

ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں
رنگ ہیں سب پیرہن میں کھو گئے ہیں ہم کہاں

مضمحل ہے صبح کا شعلہ دھواں ہے دشت پر
دیکھنا ہے اڑ کے جاتی ہے مگر شبنم کہاں

دست قاتل کے لیے ہونٹوں پہ اب بھی مرحبا
خون اہل دل کی خاطر سینۂ ماتم کہاں

دامن دل میں سمیٹے ہیں ابھی طوفاں کئی
سیل اشک و نالۂ غم ہو گئے ہیں کم کہاں

دل دھڑکتا ہے ہر اک آہٹ پہ اہل ہجر کا
جانتے ہیں وہ کہ آئے گا کوئی اس دم کہاں

اڑ کے آتا ہے غبار رہ گزر آنکھوں میں پھر
ڈھونڈھتا ہوں کھو گیا ہے دیدٔہ پر نم کہاں

محمد رئیس علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم