MOJ E SUKHAN

ہم ہی ذرے رسوائی سے

ہم ہی ذرے رسوائی سے
کیا شکوہ ہرجائی سے

عشق میں آخر خار ہوئے
لاکھ چلے دانائی سے

گرویدہ کرتے ہیں پھول
رنگوں اور رعنائی سے

ملتے ہیں انمول رتن
ساگر کی گہرائی سے

جھوٹ کے خول میں بیٹھا ہوں
ڈرتا ہوں سچائی سے

جوشؔ نے سیکھی ہے پرواز
صرف تری انگڑائی سے

اے جی جوش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم