MOJ E SUKHAN

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

غزل

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے
لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے

میری سوچیں مرا احساس مری ہی آواز
میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے

خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے
جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے

ایسی دنیا میں بڑی بات ہے زندہ رہنا
یوں تو ویرانے میں رہنا بھی عبادت ہو جائے

زندگی حسن ہے اور حسن کشش رکھتا ہے
ورنہ ہر شخص کو جاں دینے کی فرصت ہو جائے

اختلافات بھی ہوں صلح بھی ہو جائے اگر
رنجشوں میں ہمیں احساس مروت ہو جائے

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم