MOJ E SUKHAN

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے

ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے
چاند میں سچ مچ نور کہاں ہے چاند تو اک ویرانہ ہے

ناز پرستش بن جائے گا صبر ذرا اے شورش دل
الفت کی دیوانہ گری سے حسن ابھی بیگانہ ہے

مجھ کو تنہا چھوڑنے والے تو نہ کہیں تنہا رہ جائے
جس پر تجھ کو ناز ہے اتنا اس کا نام زمانہ ہے

تم سے مجھ کو شکوہ کیوں ہو آخر باسی پھولوں کو
کون گلے کا ہار بنائے کون ایسا دیوانہ ہے

ایک نظر میں دنیا بھر سے ایک نظر میں کچھ بھی نہیں
چاہت میں انداز نظر ہی چاہت کا پیمانہ ہے

خود تم نے آغاز کیا تھا جس کا ایک تبسم سے
محرومی کے آنسو بن کر ختم پہ وہ افسانہ ہے

یوں ہے اس کی بزم طرب میں اک دل غم دیدہ جیسے
چاروں جانب رنگ محل ہیں بیچ میں اک ویرانہ ہے

عندلیب شادانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم