MOJ E SUKHAN

ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے

ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے
پھر ایک عمر اندھیروں میں کاٹ دی ہم نے

دیے میں زور بہت تھا مگر نہ جانے کیوں
بس ایک حد سے نہ بڑھنے دی روشنی ہم نے

اٹھا اٹھا کے ترے ناز اے غم دنیا
خود آپ ہی تری عادت خراب کی ہم نے

وفا میں جھوٹ ملایا دلوں میں کھوٹ رکھا
کچھ اس طرح سے نبھائی ہے دوستی ہم نے

دعا کرو وہ کسی دل جلے کی آہ نہ ہو
افق کے پاس جو دیکھی ہے آگ سی ہم نے

عجیب سحر تھا دل کے قمار خانے میں
تب اٹھ کے آئے کہ ہستی بھی ہار دی ہم نے

قفس مثال تھی طارقؔ نعیم دنیا بھی
اسیر ہو کے گزاری ہے زندگی ہم نے

طارق نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم