MOJ E SUKHAN

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نے

غزل

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نے
تمام عمر پھروں در بدر لکھا اس نے

سلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن
نہ سائبان نہ کوئی شجر لکھا اس نے

تمام شہر پہ بے نام خوف طاری ہے
یہ جن کا بھوت کا کس کا اثر لکھا اس نے

یہ اور بات کہ عنواں بنا دیا مجھ کو
غموں کے قصے کو ایک اک سطر لکھا اس نے

اب آئے خوف سا گھر کے خیال سے مجھ کو
یہ کیسا دل میں سر شام ڈر لکھا اس نے

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم