MOJ E SUKHAN

ہوا پہ چل رہا ہے چاند راہ وار کی طرح

ہوا پہ چل رہا ہے چاند راہ وار کی طرح
قدم اٹھا رہی ہے رات اک سوار کی طرح

فصیل وادئ خیال سے اتر رہی ہے شب
کسی خموش اور اداس آبشار کی طرح

تڑپ رہا ہے بارشوں میں میرے جسم کا شجر
سیاہ ابر میں گھرے ہوئے چنار کی طرح

انہی اداسیوں کی کائنات میں کبھی تو میں
خزاں کو جیت لوں گی موسم بہار کی طرح

ترے خیال کے سفر میں تیرے ساتھ میں بھی ہوں
کہیں کہیں کسی غبار رہ گزار کی طرح

عبور کر سکی نہ فاصلوں کی گردشوں کو میں
بلند ہو گئی زمین کوہسار کی طرح

ترے دیئے کی روشنی کو ڈھونڈتا ہے شام سے
مرا مکاں کسی لٹے ہوئے دیار کی طرح

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم