MOJ E SUKHAN

ہوا کے سامنے شکوے نہیں سنا میرے

ہوا کے سامنے شکوے نہیں سنا میرے
ترے تو گھر کے دیے بھی ہیں مبتلا میرے

کہاں گئے سبھی یارانِ باوفا میرے
کوئی نہیں سرِ مقتل بھی اب سوا میرے

مجھ ایسا شخص بگڑنے میں طاق ہوتا ہے
یہ رکھ رکھاؤ یہ نخرے نہ تُو اٹھا میرے

عذاب اٹھاتا ہوں خود ساختہ اداسی کا
گلے پڑی ہے محبت بھی خوامخوا میرے

مجھے تو گھر میں بھی پہچانتا نہیں کوئی
اگرچہ قصے ہیں مشہور بے بہا میرے

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم