MOJ E SUKHAN

ہوا کے ہاتھ میں خنجر ہے اور سب چپ ہیں

غزل

ہوا کے ہاتھ میں خنجر ہے اور سب چپ ہیں
لہو لہان مرا گھر ہے اور سب چپ ہیں

صدائیں بکھری پڑی ہیں تمام آنگن میں
نظر نظر میں یہ منظر ہے اور سب چپ ہیں

نہ بولنے کی مناہی نہ کوئی دشواری
زباں سبھی کو میسر ہے اور سب چپ ہیں

قصوروار ہوں اتنا کہ چشم دید تھا میں
اور اب گناہ مرے سر ہے اور سب چپ ہیں

یہ بزدلی نہیں صاحب تو اور پھر کیا ہے
ستم شعار ستم پر ہے اور سب چپ ہیں

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم