ہوا کے ہاتھ پر خوشبو
اداسی شام کی اوڑھے
سکوت بام و در چھو کر
محبت کا یقیں کیسے دلائے گی
ردائے دلنشیں شب کی
فضائے خوش گما نی میں
حسیں سپنے جو لائے گی
تو اپنی رائیگانی پر
بہت آنسو بہاۓ گی
پلٹ جائے گی یہ خوشبو
تھکی ہاری ہوا کی اس ہتھیلی پر
کہ جس پر گنگنائی تھی۔
ڈاکٹر حنا امبرین طارق