غزل
ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا
نہ دامن کی خبر ہم کو نہ ہوش اپنے گریباں کا
کبھی جو دیکھ لیں محفل میں وہ ان ترچھی نظروں سے
نظر آئے سماں اس وقت پھر گنج شہیداں کا
وہ کرتے تو ہیں وعدہ روز لیکن وائے ناکامی
نہیں ہے پاس ان کو کچھ بھی اپنے عہد و پیماں کا
مجھے دفنانے وہ آئے تو مدفن میں یہ شور اٹھا
ترے مرنے سے جاگا بخت ہے گور غریباں کا
تعجب کیا پسیجے ایک دن دل اس ستم گر کا
اگر رو کر سنا دوں اس کو قصہ شام ہجراں کا
مری جاں کا ہے طالب وہ کہ دل سے پھر گیا اب دل
ذرا دیکھو تو شیداؔ معجزہ اس آفت جاں کا
عبدالمجید خواجہ شیدا