MOJ E SUKHAN

ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا

غزل

ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا
نہ دامن کی خبر ہم کو نہ ہوش اپنے گریباں کا

کبھی جو دیکھ لیں محفل میں وہ ان ترچھی نظروں سے
نظر آئے سماں اس وقت پھر گنج شہیداں کا

وہ کرتے تو ہیں وعدہ روز لیکن وائے ناکامی
نہیں ہے پاس ان کو کچھ بھی اپنے عہد و پیماں کا

مجھے دفنانے وہ آئے تو مدفن میں یہ شور اٹھا
ترے مرنے سے جاگا بخت ہے گور غریباں کا

تعجب کیا پسیجے ایک دن دل اس ستم گر کا
اگر رو کر سنا دوں اس کو قصہ شام ہجراں کا

مری جاں کا ہے طالب وہ کہ دل سے پھر گیا اب دل
ذرا دیکھو تو شیداؔ معجزہ اس آفت جاں کا

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم