MOJ E SUKHAN

ہوا ہے یہ کیا کچھ سمجھ میں نہ آئے

غزل

ہوا ہے یہ کیا کچھ سمجھ میں نہ آئے
کوئی بھی نہ اس کے سوا دل کو بھائے

کوئی بھی تو اپنا نہیں اس جہاں میں
جو اپنے تھے وہ بھی ہوئے اب پرائے

نہ جانے یہ کب سے ہیں آنکھوں میں آنسو
کوئی کاش روتے ہوؤں کو ہنسائے

نکل آئے کانٹوں سے ہم بچ بچا کے
گلوں سے مگر ہم نے ہیں زخم کھائے

نظر جب بھی آئے حسیں اس کا چہرہ
تو اس پر ہی جا کر نظر ٹھہر جائے

اٹھیں جب بھی ان کی وہ آنکھیں غزالی
انہیں دیکھ کر دل مرا ڈول جائے

مقدر میں در در کی ہیں ٹھوکریں اب
ہمارے ہی یاروں نے یہ دن دکھائے

امر ہو گئے مر کے الفت کے راہی
کیا پیار جس نے وہ منزل کو پائے

نہیں کوئی بنتا کسی کا جہاں میں
مصیبت میں تو چھوڑ جاتے ہیں سائے

بڑے خوبرو ہو بڑے خوش گلو ہو
تمہیں تو خدا نظر بد سے بچائے

تڑپتے ہیں ہم اس کی فرقت میں ساغرؔ
کہو اس سے جا کر کہ اب لوٹ آئے

عبد المجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم