MOJ E SUKHAN

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

غزل

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے
پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہے

دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں
پتلیوں کا یہ تماشا سا وگر نہ کیا ہے

تو نے پہچان لئے اپنی خدائی کے نقوش
آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا کیا ہے

زندگی بھر پڑھی تقدیر کی خفیہ تحریر
لوح مرقد سے پڑھوں آگے کا لکھا کیا ہے

میں ہوں تخلیق تری سوز کا ہم معنی ہوں
تو ہے معنی تو ترا لفظ سے رشتہ کیا ہے

ہر نفس پیٹ کا ایندھن ہے یہاں پر اے فن
ہے جو حاصل ترا دنیا ہی تو دنیا کیا ہے

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم