MOJ E SUKHAN

ہونٹوں کو میرے چوم کے ظالم نہ مار دے

ہونٹوں کو میرے چوم کے ظالم نہ مار دے
تابش سے کہدو جان کا صدقہ اتار دے

یارب ہماری زیست کو ایسا نکھار دے
ساون میں جیسے پھول کو بارش بہار دے

کب تک ترے دُوار سےلوٹیں گے خالی ہاتھ
رحمت کو اپنی بھیج مقدر سنوار دے

ہجرت میں ان دنوں ہیں کما حقہُ بیتاب
باہوں کا اس کے دلنشیں دلکش حصار دے

اشکوں سے ہم نہائے ہیں چاہت میں بارہا
موسم تو اس کے پیار کا اب خوشگوار دے

دھوکے ملے ہیں پیار میں جن سےبھی کی وفا
اب ہمسفر بھی دے تو کوئی غمگسار دے

میدانِ کارزار میں ہرپل ہو تیرا ساتھ
اتنا بھروسہ آج تو پرور دگار دے

دریائے کربلا میں ہوں مٗیں کب سے موٗجزن
تابش کو موجِ کرب سے مولا ابھار دے

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم