ہوا نے سُر جو بدلا ہے
فضا نے راگ چھیڑے ہیں
پرندے جو چہکتے ہیں
کہ جیسے بین کرتے ہوں
اداسی کی ہوائیں ہوں
لبوں پہ بس دعائیں ہوں
دوپہریں جون جیسی ہیں
مگر شامیں سُہانی ہیں
اور اِن شاموں کی ٹھنڈک میں
رضائ پاؤں پر
اور بازوؤں پہ شال کو ڈالے
موبائل ہاتھ میں لےکر
ترا نمبر ملانا ہے
وہ سب تجھ کو بتانا ہے
جو اِس موسم کی آمد سے
میرے اوپر گزرتی ہے
ہوا کے تیز چلنے سے
مری جب شال گرتی ہے
بظاہر سرد ہے موسم
مگر موسم کی یہ ٹھنڈک
بدن میں آگ بھرتی ہے
اور ایسے میں اچانک سے
بڑی ترتیب سے مجھ کو
وہ منظر یاد آتا ہے
ٹھٹھڑتی شام جاڑے کی
رگوں میں دوڑتا یہ خون
سمجھ لو بس جما ہی تھا
وہیں اک ہاتھ نے
دھیرے سے میرا ہاتھ چھوڑا تھا
بہت وعدوں کو توڑا تھا
اکیلا چھوڑ جانے کا
بچھڑنے کا سمے ٹھہرا
جو موسم تھا منانے کا
مرے جذبے بکھرنے میں
ترے میرے بچھڑنے میں
محبت کھو گئی اُس سے
جو اُلفت کا مہینہ تھا
کہ نفرت ہو گئی اس سے
وفاؤں آرزؤوں کا
یہی قاتل مہینہ ہے
کہ وہ دن اور یہ دن ہیں
اکیلے رہ کے جینا ہے
یہ موسم میرا مجرم ہے
کہ اِس نے تجھ کو چھینا ہے
تاجورشکیل