MOJ E SUKHAN

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی

۔

موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا

رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی

۔

میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو

ہو گئی شام سہانی پھر بھی

۔

چشم نم نے اسے جاتے دیکھا

دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی

۔

لوگ ارزاں ہوئے جاتے ہیں یہاں

بڑھتی جاتی ہے گرانی پھر بھی

۔

بریدہ لائے ہو دربار میں تم

یاد ہے شعلہ بیانی پھر بھی

۔

بھول جوتے ہیں مسافر رستہ

لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

عنبرین حسیب عنبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم