MOJ E SUKHAN

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا
چمن کا موجۂ باد صبا سے کٹ جانا

کرن کے حق میں یہ سورج کا فیصلہ کیوں ہے
جو فرش خاک پکارے تو دور ہٹ جانا

میں پر شکستہ نہ تھا بادلوں کے بیچ مگر
مری اڑان کا زنجیر سے لپٹ جانا

یہ ساز و رخت دل بہرہ مند کیا شے ہے
تمام بکھرے ہوئے درد کا سمٹ جانا

یہ کون جھانک رہا تھا دریچۂ شب سے
عجب سماں تھا گھنے بادلوں کا چھٹ جانا

کہیں پہ دست نگاریں کہیں لب لعلیں
وہ سوتے سوتے مری نیند کا اچٹ جانا

میان راہ عجب پر فضا تھی گہری جھیل
میں ڈوب جاتا کہ اچھا ہوا پلٹ جانا

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم