MOJ E SUKHAN

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں

غزل

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں
ڈالا ہے تم نے مجھ کو عجب پیچ و تاب میں

ڈھونڈیں گے ایک دن مجھے خود جلوہ ہائے حسن
دیکھوں گا میں رہیں گے وہ کب تک حجاب میں

اک حسن برق پاش کی دن رات ہے تلاش
اپنی قضا کو ڈھونڈ رہا ہوں شباب میں

ہم نے جنوں کو عقل کہا عقل کو جنوں
کیا نکتہ رس تھا عشق ہمارا شباب میں

اجزا یہی ہیں نسخۂ آب حیات کے
کچھ مستیٔ نگاہ ملا دو شراب میں

پھر ہو رہی ہے پرسش اعمال روز حشر
یا رب سزائے موت گئی کس حساب میں

گیسو دراز مست نظر چہرہ آفتاب
اب کچھ کمی نہیں ہے تمہارے شباب میں

خط میں کھری کھری بھی سنائی ہیں کچھ انہیں
مطلب یہ ہے کریں نہ توقف جواب میں

دنیائے عقل و ہوش میں ساحرؔ کسے نصیب
وہ کیف بے خودی جو ہے بزم شراب میں

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم