غزل
ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا
یعنی مرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا
میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں
مجھ کو ہنسا دیا گیا مجھ کو رلا دیا گیا
میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو
مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا
میں نے کہا کہ زندگی درد دیا گیا مجھے
میں نے کہا کہ آگہی زہر پلا دیا گیا
خواب تھا میرا عشق بھی خواب تھا تیرا حسن بھی
خواب میں یعنی ایک اور خواب دکھا دیا گیا
میر احمد نوید