MOJ E SUKHAN

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا

غزل

ہے اور نہیں کا آئینہ مجھ کو تھما دیا گیا
یعنی مرے وجود کو کھیل بنا دیا گیا

میرا سوال تھا کہ میں کون ہوں اور جواب میں
مجھ کو ہنسا دیا گیا مجھ کو رلا دیا گیا

میرے جنوں کو تھی بہت خواہش سیر و جستجو
مجھ کو مجھی سے باندھ کر مجھ میں بٹھا دیا گیا

میں نے کہا کہ زندگی درد دیا گیا مجھے
میں نے کہا کہ آگہی زہر پلا دیا گیا

خواب تھا میرا عشق بھی خواب تھا تیرا حسن بھی
خواب میں یعنی ایک اور خواب دکھا دیا گیا

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم