MOJ E SUKHAN

ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے

غزل

ہے سینہ چاک ہر گل خنداں مرے لئے
شاید ہے سوگوار بہاراں مرے لئے

قطرے کو دے کے آب میرے دل کو احتیاج
کیا کیا اٹھائے جاتے ہیں طوفاں مرے لئے

کل وہ سنیں گے زیست کی کیفتیوں کا ذکر
رکھا گیا ہے درد کا عنواں مرے لئے

مبہم سا وعدہ آنے کا پھر قید انتظار
گھر کو بنا دیا گیا زنداں مرے لئے

شاخوں پہ گل فلک پہ ستاروں کا اہتمام
ہر بام سے ہیں جلوے نمایاں مرے لئے

ملتی ہے اک مراد تو بڑھتا ہے ایک شوق
دام بلا سے وسعت داماں مرے لئے

محمود سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم