MOJ E SUKHAN

ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگے

ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگے
زندگی ہر روپ میں ہر رنگ میں پیاری لگے

ٹھوکریں کھا کر سنبھلنا فطرت۔انسان ہے
کب سنبھلتا ہے وہ جب تک ضرب نہ کاری لگے

ماسوائے رب کہیں وہ ہاتھ پھیلاتا نہیں
دولتِ دنیا سے بڑھ کر جس کو خود داری لگے

دوستی کے نام پر کچھ اس قدر کھائے فریب
نام لے کوئی وفا کا اب تو عیاری لگے

آ جکل ملتے ہیں روبی سب ہی مطلب کے لیے
کوئی بھی ایسا نہیں جو غرض سے عاری لگے

روبینہ ممتاز روبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم