ہے عطائے رب تو پھر کیوں یہ ہمیں بھاری لگے
زندگی ہر روپ میں ہر رنگ میں پیاری لگے
ٹھوکریں کھا کر سنبھلنا فطرت۔انسان ہے
کب سنبھلتا ہے وہ جب تک ضرب نہ کاری لگے
ماسوائے رب کہیں وہ ہاتھ پھیلاتا نہیں
دولتِ دنیا سے بڑھ کر جس کو خود داری لگے
دوستی کے نام پر کچھ اس قدر کھائے فریب
نام لے کوئی وفا کا اب تو عیاری لگے
آ جکل ملتے ہیں روبی سب ہی مطلب کے لیے
کوئی بھی ایسا نہیں جو غرض سے عاری لگے
روبینہ ممتاز روبی