MOJ E SUKHAN

ہے یہی شرط بندگی کے لئے

ہے یہی شرط بندگی کے لئے
سر جھکاؤں تیری خوشی کے لئے

عشق میں جل رہے ہیں پروانے
درس عبرت ہے آدمی کے لئے

ایک زمانے کے ظلم سہتا ہوں
میں فقط آپ کی خوشی کے لئے

مل ہی جاتا ہے وہ بہر صورت
جو مقدر ہے زندگی کے لئے

خون دل اشک بن کے بہتا ہے
دل تڑپتا ہے جب کسی کے لئے

اس طرح بھی بہار آتی ہے
پھول روتے ہیں تازگی کے لئے

سچ تو یہ ہے کہ آپ ہی کا غم
اب سہارا ہے زندگی کے لئے

اپنے جلووں سے کیجیے آباد
خانۂ دل ہے آپ ہی کے لئے

ساری دنیا کو چھوڑ سکتا ہے
تیرا صادقؔ تیری خوشی کے لئے

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم