ہے یہی شرط بندگی کے لئے
سر جھکاؤں تیری خوشی کے لئے
عشق میں جل رہے ہیں پروانے
درس عبرت ہے آدمی کے لئے
ایک زمانے کے ظلم سہتا ہوں
میں فقط آپ کی خوشی کے لئے
مل ہی جاتا ہے وہ بہر صورت
جو مقدر ہے زندگی کے لئے
خون دل اشک بن کے بہتا ہے
دل تڑپتا ہے جب کسی کے لئے
اس طرح بھی بہار آتی ہے
پھول روتے ہیں تازگی کے لئے
سچ تو یہ ہے کہ آپ ہی کا غم
اب سہارا ہے زندگی کے لئے
اپنے جلووں سے کیجیے آباد
خانۂ دل ہے آپ ہی کے لئے
ساری دنیا کو چھوڑ سکتا ہے
تیرا صادقؔ تیری خوشی کے لئے
صادق دہلوی