MOJ E SUKHAN

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا

یادوں کے باغ سے وہ ہرا پن نہیں گیا

ساون کے دن چلے گئے ساون نہیں گیا

۔

ٹھہرا تھا اتفاق سے وہ دل میں ایک بار

پھر چھوڑ کر کبھی یہ نشیمن نہیں گیا

۔

ہر گل میں دیکھتا رخ لیلیٰ وہ آنکھ سے

افسوس قیس دشت سے گلشن نہیں گیا

۔

رکھا نہیں مصور فطرت نے مو قلم

شہ پارہ بن رہا ہے ابھی بن نہیں گیا

۔

میں نے خوشی سے کی ہے یہ تنہائی اختیار

مجھ پر لگا کے وہ کوئی قدغن نہیں گیا

۔

تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو

میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا

۔

دشمن کو میں نے پیار سے راضی کیا شعورؔ

اس کے مقابلے کے لئے تن نہیں گیا

انور شعور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم