MOJ E SUKHAN

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گر
راستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے

آؤ تعمیر کریں اپنی وفا کا معبد
ہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے

سالہا سال عقیدت سے کھلا رہتا ہے
منفرد راہوں کا آغوش جیالوں کے لیے

رات کا کرب ہے گلبانگ سحر کا خالق
پیار کا گیت ہے یہ درد اجالوں کے لیے

شب فرقت میں سلگتی ہوئی یادوں کے سوا
اور کیا رکھا ہے ہم چاہنے والوں کے لیے

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم