MOJ E SUKHAN

یار پہلو میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

یار پہلو میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
تار گیسو رگ جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

دل میں وہ غنچہ وہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
گل شگوفہ میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

وہ ہی نور دو جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
وہی یاں تھا وہی واں تھا مجھے معلوم نہ تھا

دل مرا کعبۂ جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
نالہ گلبانگ اذاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

آنکھ پر ڈال دیا دیر و حرم کا پردہ
وہی دونوں میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

صفت نور بصارت وہ مرا پردہ نشیں
میرے پردہ سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

حسن صورت نے دیا جلوۂ معنی کا پتہ
بت نہ تھا سنگ نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

جانب کعبۂ مقصود تن زار مرا
روش ریگ رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بے خبر پڑھنے لگا مومنؔ و غالبؔ کا کلام
کنج خلوت میں بیاںؔ تھا مجھے معلوم نہ تھا

بیان میرٹھی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم