MOJ E SUKHAN

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے
آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے

مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا
خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے

خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ
کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے

زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ جانئے
دشت میں بھٹکا ہوا جیسے بگولا جھوٹ ہے

اختر شمار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم