MOJ E SUKHAN

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں
حقیقت کی ضد اعتقادات ہیں

ترقی کے رستے نہ کھلتے مگر
یہ سب دوستوں کی عنایات ہیں

یہ زنجیر بھی اتنی محکم نہیں
حقائق بھی ذاتی خیالات ہیں

کوئی شخص خوبی سے خالی نہیں
ہر اک شخص کے اپنے حالات ہیں

فلک کو بھی دیکھیں گے لیکن ابھی
زمیں پر بھی کتنے مقامات ہیں

ادا کچھ کیا نسل فردا کا قرض
کہ ہم اے زمانے ترے ساتھ ہیں

سید ضمیر جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم