MOJ E SUKHAN

یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں

غزل

یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں
دل تم کو دیا اس سے لاچار اٹھاتے ہیں

ہم مطلب دل چاہیں گردوں سے یہ کیا ممکن
آزاد منش اس کے کب عار اٹھاتے ہیں

بہکانے سے غیروں کے کیا کیجے علاج اس کا
ہر بات میں وہ مجھ سے تکرار اٹھاتے ہیں

منہ کیا ہے فلک تیرا کوہ غم ہجراں کا
یہ حضرت دل ہی ہیں جو بار اٹھاتے ہیں

ہم تفتہ جگر ظالم ہے کچھ بھی خبر تجھ کو
الفت میں تری کیا کیا آزار اٹھاتے ہیں

اک جنبش ابرو ہی عشاق کو کافی ہے
کیوں قتل کو وہ ان کے تلوار اٹھاتے ہیں

کچھ عیشؔ سنا تو نے اس بزم میں عاشق پر
طوفان نئے کیا کیا اغیار اٹھاتے ہیں

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم