غزل
یوں بات کسی کی ہم کب یار اٹھاتے ہیں
دل تم کو دیا اس سے لاچار اٹھاتے ہیں
ہم مطلب دل چاہیں گردوں سے یہ کیا ممکن
آزاد منش اس کے کب عار اٹھاتے ہیں
بہکانے سے غیروں کے کیا کیجے علاج اس کا
ہر بات میں وہ مجھ سے تکرار اٹھاتے ہیں
منہ کیا ہے فلک تیرا کوہ غم ہجراں کا
یہ حضرت دل ہی ہیں جو بار اٹھاتے ہیں
ہم تفتہ جگر ظالم ہے کچھ بھی خبر تجھ کو
الفت میں تری کیا کیا آزار اٹھاتے ہیں
اک جنبش ابرو ہی عشاق کو کافی ہے
کیوں قتل کو وہ ان کے تلوار اٹھاتے ہیں
کچھ عیشؔ سنا تو نے اس بزم میں عاشق پر
طوفان نئے کیا کیا اغیار اٹھاتے ہیں
حکیم آغا جان عیش