MOJ E SUKHAN

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

بزم اس شخص کی ہے تو جسے حاصل ہو جائے

.

ناخدا اے مری کشتی کے چلانے والے

لطف تو جب ہے کہ ہر موج ہی ساحل ہو جائے

.

اس لیے چل کے ہر اک گام پہ رک جاتا ہوں

تا نہ بے کیف غم دورئ منزل ہو جائے

.

تجھ کو اپنی ہی قسم یہ تو بتا دے مجھ کو

کیا یہ ممکن ہے کبھی تو مجھے حاصل ہو جائے

.

ہائے اس وقت دل زار کا عالم کیا ہو

گر محبت ہی محبت کے مقابل ہو جائے

.

پھیکا پھیکا ہے مری بزم محبت کا چراغ

تم جو آ جاؤ تو کچھ رونق محفل ہو جائے

.

تیری نظریں جو ذرا مجھ پہ کرم فرمائیں

تیری نظروں کی قسم پھر یہی دل دل ہو جائے

.

ہوش اس کے ہیں یہ جام اس کا ہے تو ہے اس کا

مے کدے میں ترے جو شخص بھی غافل ہو جائے

.

فتنہ گر شوق سے بہزادؔ کو کر دے پامال

اس سے تسکین دلی گر تجھے حاصل ہو جائے

بہزاد لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم