MOJ E SUKHAN

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ

غزل

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ
حادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگ

جب مجھے دشواریوں سے رو بہ رو ہونا پڑا
تب میں سمجھا ریزہ ریزہ کیوں بکھر جاتے ہیں لوگ

صرف غازہ ہی نہیں چہروں کی رعنائی کا راز
شدت غم کی تپش سے بھی نکھر جاتے ہیں لوگ

مسئلے آ کر لپٹ جاتے ہیں بچوں کی طرح
شام کو جب لوٹ کر دفتر سے گھر جاتے ہیں لوگ

ہر نفسؔ مر مر کے جیتے ہیں تجھے اے زندگی
اور جینے کی تمنا میں ہی مر جاتے ہیں لوگ

نفس انبالووی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم