MOJ E SUKHAN

یوں تو کتنوں سے زمانے میں شناسائی ہے

یوں تو کتنوں سے زمانے میں شناسائی ہے
پھر بھی اس دل میں عجب عالمِ تنہائی ہے

پہلے کچھ لوگ تو رکھتے تھے وفاؤں کا بھرم
اب تو ہر شخص ہی لگتا ہے کہ ہرجائی ہے

دل میں شکوہ ہے نہ حسرت نہ تمنا ہے کوئی
جب سے اس جرمِ محبت کی سزا پائی ہے

ہم کہ برباد ہوئے شوقِ جنوں کے ہاتھوں
کیا کریں دل یہ ہمیشہ سے ہی سودائی ہے

اب مسیحا ہے کوئی اور نہ ہمدرد صبا ؔ
ملنے والوں میں ہر اک شخص تماشائی ہے

صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم