MOJ E SUKHAN

یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں

غزل

یوں تو ہمارے شہر میں قانون بھی نہیں
قانون کا سرے سے مگر خون بھی نہیں

معیار شعر میرا نہ تم جانچ پاؤ گے
اقدار اگر نہیں ہے تو شب خون بھی نہیں

یوں تو کوئی شریف بلاتا نہیں مجھے
لیکن میں سارے شہر میں مطعون بھی نہیں

میں جس کا بوجھ سر پہ لیے پھر رہا ہوں آج
سنتا ہوں یہ کہ وہ مرا ممنون بھی نہیں

کیوں ہنس رہے ہیں آپ مرا گھر ہے لاپتہ
اس نقشے میں تو آپ کا رنگون بھی نہیں

جانے کہاں گیا ہے وہ میرا شریک غم
خط بھی نہیں ہے کوئی کوئی فون بھی نہیں

کیوں مجھ سے عسکری کی طرح ملتے ہو نظرؔ
میں تو تمہارا بھائی ہمایون بھی نہیں

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم